اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دینے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئندہ ماہ سے لاہور سے روس تک براہ راست مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی نئی راہوں کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق، اس منصوبے کا پائلٹ فیز اگست میں شروع کیا جائے گا، جس کے تحت پہلی مال بردار ٹرین 16 بوگیوں پر مشتمل ہو گی۔ یہ ٹرین ایران، ترکمانستان اور قازقستان کے راستے روس پہنچے گی، جو براعظم ایشیا میں ایک نیا زمینی تجارتی راہداری فراہم کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ریل سروس کے ذریعے روس، قازقستان اور ترکمانستان سے مختلف اشیاء پاکستان تک پہنچائی جا سکیں گی، جبکہ پاکستانی برآمدات بھی باآسانی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کریں گی۔ اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہو گا بلکہ خطے میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے روس کا دورہ کیا تھا، جہاں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور اقتصادی تعاون کی ایک اور مثال ہے۔
یہ منصوبہ جنوبی اور وسطی ایشیا کو آپس میں جوڑنے والا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ علاقائی ہم آہنگی اور تجارتی تعاون بھی فروغ پائے گا۔






