اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 900 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں کہی۔
"پاکستان شدید موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے”
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور عالمی سطح پر موسمیاتی نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"وزیراعظم نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ملک میں موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ آئندہ کے خطرات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔”
سیلاب سے تباہی، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو سرگرمیاں جاری
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سیالکوٹ اور نارووال جیسے علاقوں میں بارشوں نے شدید تباہی مچائی، جب کہ دیگر کئی اضلاع میں بھی نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں فلاحی ادارے اور نجی تنظیمیں بھرپور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اور ان کا جذبہ قابلِ ستائش ہے۔
"مون سون سے پہلے تیاری ضروری ہے”
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ:
"ہمیں اب مزید تاخیر کیے بغیر آئندہ مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں کا آغاز کرنا ہوگا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت، این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں زیادہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
پیشگی انتظامات اور بین الصوبائی تعاون
وزیر موصوف نے بتایا کہ خاص طور پر سندھ میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا چکے ہیں، اور امید ظاہر کی کہ ان کوششوں کے باعث جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔
"تمام ادارے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے متحد ہوں”
مصدق ملک نے آخر میں کہا کہ:
"ہمیں صرف موجودہ خطرات سے نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے بھی تیاری کرنی ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں تمام اداروں کو مل کر بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنا ہوگا۔”






