"عمران خان کی رہائی ورنہ سیاست چھوڑ دیں گے”: علی امین گنڈاپور کا حکومت کو 90 دن کا الٹی میٹم
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو 90 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو وہ سیاست چھوڑنے تک کا انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "یا ہم ہوں گے یا وہ، ہم اپنی منزل پائیں گے یا سیاست کو خیرباد کہہ دیں گے۔”
یہ دبنگ بیان انہوں نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر گفتگو کی۔
پارٹی مؤقف پر غیر متزلزل عزم
علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مطالبہ صرف انصاف، شفافیت اور آئین کی بالا دستی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی معطلی پر سخت ردعمل
وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی معطلی کو غیر قانونی اور جمہوری روایات کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ارکان کو بحال نہ کیا گیا تو ہم بھی ادارہ جاتی ردعمل دینے سے گریز نہیں کریں گے۔
تحریک انصاف کے مینڈیٹ پر "ڈاکہ”
خطاب میں علی امین گنڈاپور نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے مینڈیٹ پر بارہا ڈاکہ ڈالا گیا:
2013 میں عوامی رائے کو نظرانداز کیا گیا
2018 میں پارٹی کی اکثریت کمزور کرنے کے لیے ماحول تیار کیا گیا
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ سے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ان پر کوئی سازش ثابت ہو جائے تو وہ ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔
مولانا فضل الرحمان پر تنقید
علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب جعلی مینڈیٹ پر ایوان میں موجود ہیں اور عوام انہیں بارہا مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر مولانا صاحب اپنے رویے میں بہتری لائیں تو یہ ان کے لیے بھی بہتر ہوگا اور ملک کے لیے بھی۔”
سیاسی ماحول میں نئی ہلچل
وزیراعلیٰ کے ان بیانات کے بعد ملکی سیاسی فضا میں ایک نئی ہلچل اور کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وفاقی حکومت علی امین گنڈاپور کے 90 روزہ الٹی میٹم پر کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔






