نیو یارک — اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی الزامات کا بھرپور اور مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جو کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا۔
صائمہ سلیم نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
بھارتی اقلیتوں پر ظلم کے سنگین الزامات
پاکستانی قونصلر نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:
"بھارت میں اقلیتوں کو آزادی کے ساتھ عبادت کی اجازت نہیں دی جاتی، اقلیتوں کو دبانا اب بھارتی حکومت کی سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔”
انہوں نے گجرات فسادات کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ دنیا آج بھی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو ظلم کی بدترین مثال کے طور پر یاد کرتی ہے۔
اسلاموفوبیا اور علاقائی عدم استحکام
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو سیاسی معمول سمجھا جاتا ہے اور میڈیا میں اس پر فخر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر سرحد پار تشدد کو فروغ دینے اور خطے کو عدم استحکام میں دھکیلنے کے لیے پراکسی گروپس کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کی بھرپور نمائندگی
پاکستانی قونصلر کا یہ موقف اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اور بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کرتا ہے۔






