کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں مبینہ غفلت اور بدانتظامی کے خلاف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سادہ لباس اہلکاروں نے ایس بی سی اے کے دفتر پر اچانک چھاپہ مار کر چھ اعلیٰ افسران کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افسران میں 4 سینئر ڈائریکٹرز، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر شامل ہیں، جن سے ابتدائی طور پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
لیاری عمارت حادثہ: کارروائی کی بنیاد
یہ کارروائی 4 جولائی کو کراچی کے علاقے لیاری، بغدادی میں پیش آنے والے افسوسناک عمارت گرنے کے واقعے کے بعد کی گئی ہے، جس میں 27 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
پولیس کے مطابق حادثے کا مقدمہ محکمہ بلدیات کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ایس بی سی اے کے اعلیٰ افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی اقدامات میں غفلت سامنے آئی ہے۔
شفافیت اور احتساب کی جانب قدم
اس کارروائی کو شہری حلقوں کی جانب سے احتساب اور شفافیت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور غفلت کے خلاف مؤثر اور بلا تفریق اقدامات شہری جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے سخت اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔






