اہم خبریںتازہ تریندنیا

برطانیہ اور فرانس کے تعلقات میں نیا باب: مہاجرین کے مسئلے پر مشترکہ حکمتِ عملی پر پیش رفت

لندن: برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے درمیان لندن میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں غیر قانونی امیگریشن، دفاعی تعاون، تجارت اور یورپی استحکام پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خطرناک طریقے سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کے لیے "نئی روک تھام” کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ اس حکمت عملی میں "ون اِن، ون آؤٹ” پالیسی پر بات ہوئی، جس کے تحت غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کو واپس فرانس بھیجا جائے گا، جبکہ قانونی طریقے سے فرانس میں موجود اتنی ہی تعداد میں پناہ گزینوں کو برطانیہ میں پناہ دی جائے گی۔

اس پالیسی کا مقصد انسانی اسمگلنگ کو روکنا، بحیرۂ انگلستان میں قیمتی جانوں کو بچانا اور یورپ میں قانونی امیگریشن کے لیے ایک منظم اور باعزت راستہ فراہم کرنا ہے۔

اگرچہ یورپی یونین کے بعض جنوبی رکن ممالک نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام برطانیہ-فرانس تعاون کا نیا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں امیگریشن جیسے حساس مسائل کو مل کر حل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

وزیراعظم ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون نے یوکرین کی حمایت، دفاعی شعبے میں شراکت داری، اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی روابط کو ایک بار پھر نمایاں کیا گیا۔

آج متوقع اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس میں اس مجوزہ پالیسی کے مزید نکات اور عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا، جس کے ذریعے برطانیہ اور فرانس انسانی وقار اور عالمی قوانین کے تحت امیگریشن کے مسئلے کو بہتر انداز میں حل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button