واشنگٹن ڈی سی / عالمی خبر رساں ادارے سال 2025 امریکی خارجہ پالیسی اور عسکری مداخلت کے حوالے سے انتہائی متحرک رہا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ڈرونز، فضائی اور بحری طاقت کا وسیع استعمال کیا۔ ان کارروائیوں کا محور دہشت گردی کا خاتمہ، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا رہا۔
وینزویلا: منشیات کے نیٹ ورک پر کاری ضرب
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ سال کا آخری حملہ وینزویلا میں منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی ایک بوٹ اور ڈاکنگ ایریا پر کیا گیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ "ایک بڑا دھماکہ کیا گیا جس نے اس پورے علاقے کو ختم کر دیا جہاں منشیات لوڈ کی جاتی تھیں۔”
ایران: جوہری پروگرام کو شدید نقصان
سال کی سب سے بڑی عسکری کارروائی 22 جون 2025 کو دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے ایران کی تین کلیدی جوہری تنصیبات نطنز، اصفہان اور فردو کو نشانہ بنایا۔ پینٹاگون کے مطابق ان حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام کم از کم دو سال پیچھے چلا گیا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بعض مقامات پر شدید نقصان کی تصدیق کی ہے۔
عراق اور شام: داعش کے خلاف آپریشنز
عراق: 13 مارچ کو صوبہ الانبار میں ایک اہم آپریشن کے دوران داعش کے عالمی آپریشنز کے سربراہ ابو خدیجہ کو ہلاک کر دیا گیا۔ وہ تنظیم کے مالی اور لاجسٹک امور کا نگران تھا۔
شام: پالمیرا میں امریکی فوجیوں پر حملے کے جواب میں 19 دسمبر کو داعش کے 70 ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔
افریقہ: الشاباب اور داعش کی بیخ کنی
صومالیہ: امریکہ نے سال بھر میں الشاباب اور داعش کے خلاف ریکارڈ 111 فضائی حملے کیے، تاہم ان حملوں میں سویلین ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
نائجیریا: 26 دسمبر کو شمال مغربی نائجیریا میں داعش کے ٹھکانوں پر طاقتور فضائی حملے کیے گئے۔
یمن اور کیریبین: بحری گزرگاہوں کی حفاظت
یمن: جنوری 2024 سے جاری حوثی مخالف مہم 2025 میں بھی شدت سے جاری رہی، جس کا مقصد بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا تھا۔
کیریبین: ستمبر 2025 میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران چھوٹے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 95 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی پر واشنگٹن کو "غیر قانونی قتل” جیسے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ: مبصرین کے مطابق سال 2025 میں امریکی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن اب براہ راست جنگوں کے بجائے ٹیکنالوجی (ڈرونز) اور سرجیکل اسٹرائیکس کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔






