ٹیکس پالیسی سازی میں بہتری کی جانب اہم قدم: ٹیکس پالیسی آفس وزارت خزانہ کے ماتحت منتقل
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر اور باہمی مشاورت پر مبنی بنانے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے نکال کر وزارت خزانہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت کونسل کے سی ای او احسن ملک اور نئے نامزد سی ای او جاوید قریشی کر رہے تھے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل میں قیادت کی تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نئی ٹیم کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی سازی کے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے، اور بزنس کونسل جیسے اداروں کی تحقیق اور ڈیٹا حکومت کی پالیسیوں میں گراں قدر معاونت فراہم کرتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ٹیکس پالیسی آفس کی وزارتِ خزانہ میں منتقلی کا مقصد مشاورت کے ادارہ جاتی عمل کو فروغ دینا ہے تاکہ کاروباری برادری کی تجاویز کو پالیسی سازی میں مؤثر طور پر شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی وژن کے تحت وفاقی بجٹ 2025-26 کے لیے مشاورتی عمل کا آغاز اس سال غیر معمولی طور پر جلد کر دیا گیا، تاکہ چیمبرز، تجارتی تنظیموں اور کاروباری اداروں سے موصول ہونے والی تجاویز پر وقت سے پہلے غور کر کے انہیں بجٹ کا حصہ بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے پالیسی اصلاحات میں قریبی اشتراک جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔






