لاہور (سیاسی رپورٹ) — امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، اور اسرائیل سے متعلق پالیسی پر قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف واضح کریں کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کہاں گئی؟
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ "پانی اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی وہیں کا وہیں موجود ہے، لیکن بھارت سے جیتی ہوئی جنگ ہم ان کے نرم رویے اور بیانات کی وجہ سے ہار رہے ہیں۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت سے بات چیت کا ایجنڈا صرف آلو، پیاز اور تجارت کیوں ہوتا ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی تسلیم پذیری پر سخت مؤقف
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ابراہم معاہدے جیسے کسی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیان دینے والوں کو یہ اختیار کس نے دیا؟ یہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور قومی موقف کے خلاف ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی امریکا یا دیگر قوتوں کے کہنے پر اس حساس معاملے پر پیش رفت کرے گا، وہ تاریخ میں عبرت کا نشان بنے گا۔ حافظ نعیم نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف فلسطین کے حق میں ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
حماس اور فلسطینیوں کے حق کی حمایت
اپنی گفتگو میں انہوں نے امریکا اور عرب ممالک سے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر حماس انتخابات جیت چکی تھی، تو اسے اقتدار سے محروم کیوں رکھا گیا؟ انہوں نے کہا کہ "ہم نے اسرائیل کو غزہ میں ناکام ہوتے دیکھا ہے، اور دنیا کو فلسطینی عوام کی جدوجہد تسلیم کرنی چاہیے۔”






