ملک محمد احمد خان کا دوٹوک مؤقف: آئینی دفعات کا منصفانہ استعمال ضروری ہے
لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے آئین کی دفعات 62 اور 63 کے من پسند استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دفعات آمریت کی باقیات ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
"جمہوریت میں انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، صرف وزیراعظم ہی نہیں بلکہ ایوان کو بدنظمی کا شکار کرنے والوں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اسپیکر کا کردار غیر جانبدار کسٹوڈین کا ہوتا ہے اور انہوں نے ہمیشہ تمام جماعتوں کو برابر موقع دیا۔
اہم نکات:
دفعات 62، 63 کا من پسند استعمال ناقابل قبول
اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ حلف کی خلاف ورزی پر کارروائی کرے
ایوان کی خودمختاری کا احترام ضروری
جمہوری اقدار کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمے داری ہے
🇵🇰 ایک مستحکم اور باخبر جمہوریت کی جانب قدم
ملک محمد احمد خان کا یہ بیان آئینی شفافیت، جمہوری وقار، اور سیاسی برداشت کے فروغ کی علامت ہے۔ یہ پیغام عوامی نمائندوں اور اداروں کے درمیان آئینی شعور اور ذمہ داری کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے — جو پاکستان کی جمہوری ترقی کا حوصلہ افزا اشارہ ہے۔






