اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایلون مسک کا نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان

کیلیفورنیا (نیوز ڈیسک) — دنیا کے ممتاز کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے ایک نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ مسک نے اس جماعت کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس (X)‘ پر کرتے ہوئے اسے امریکہ میں رائج دو بڑی سیاسی جماعتوں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، کے نظام کا متبادل قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ:

"موجودہ سیاسی نظام نے ملک کو کرپشن، مفادات کی سیاست اور بدانتظامی کے ذریعے تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسی قیادت سامنے لائیں جو صرف اشرافیہ نہیں بلکہ عام عوام کی خدمت کرے۔”

مسک کا کہنا تھا کہ ’امریکا پارٹی‘ عوام کو حقیقی آزادی، شفاف حکمرانی اور بااختیار شہریوں کا تصور دے کر ایک نیا سیاسی بیانیہ پیش کرے گی۔ تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ جماعت امریکہ کے انتخابی اداروں میں باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہوئی ہے یا نہیں، اور نہ ہی اس کے تنظیمی ڈھانچے یا ممکنہ امیدواروں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ایلون مسک کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ مسک نے کھل کر ٹرمپ کی ٹیکس اصلاحات اور معیشت سے متعلق اقدامات پر تنقید کی تھی، جس کے بعد دونوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔

یاد رہے کہ ایلون مسک ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے کروڑوں ڈالر کے عطیات دے چکے ہیں اور وہ ٹرمپ انتظامیہ میں مختصر مدت (129 دن) کے لیے مشاورتی کردار بھی ادا کر چکے ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے پالیسی اختلافات کی بنیاد پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایلون مسک کی نئی سیاسی جماعت امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور کاروباری حلقوں کے درمیان اسے پذیرائی ملنے کے امکانات موجود ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button