توانائی بحران: کس حکومت نے بجلی کے کتنے منصوبے منظور کیے؟ تفصیلات منظر عام پر
اسلام آباد: توانائی کے بحران سے دوچار پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مختلف ادوار میں حکومتوں کی کارکردگی پر روشنی ڈالنے والی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ کس حکومت نے کتنے میگا واٹ کے بجلی منصوبے منظور کیے۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں مختلف حکومتوں کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور منصوبوں کی نوعیت میں واضح فرق رہا ہے۔
تحریک انصاف (2018–2022):
تحریک انصاف کے دور میں متبادل توانائی (Renewable Energy) پر سب سے زیادہ زور دیا گیا۔ اس حکومت کے دوران 2710 میگا واٹ کے 16 منصوبے منظور کیے گئے، جن میں ہوا، شمسی (سولر) اور پن بجلی جیسے منصوبے شامل تھے۔
مسلم لیگ (ن) (مختلف ادوار):
مسلم لیگ (ن) کی حکومت، جو اس وقت چوتھی بار وفاق میں برسر اقتدار ہے، کے دوران توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ کام ہوا۔ ن لیگ کے ادوار میں مجموعی طور پر 9142 میگا واٹ کے 33 منصوبے منظور کیے گئے، جن میں فرنس آئل، کوئلہ، پن بجلی، ہوا اور سولر توانائی کے منصوبے شامل تھے۔ تاہم، زیادہ تر توانائی منصوبے روایتی ذرائع جیسے فرنس آئل اور کوئلے پر مبنی تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (مختلف ادوار):
پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں 3382 میگا واٹ کے 24 منصوبے منظور کیے۔ ان منصوبوں میں کوئلے، فرنس آئل، گیس، ونڈ انرجی اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس شامل تھے۔
مسلم لیگ (ق) (2002–2007):
مشرف دور میں برسر اقتدار رہنے والی مسلم لیگ (ق) کے دور میں توانائی کے شعبے میں 1884 میگا واٹ کے 9 منصوبے منظور کیے گئے، جو زیادہ تر کوئلے، فرنس آئل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس پر مشتمل تھے۔
پاکستان اور توانائی کا چیلنج:
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں توانائی کی قلت اور مہنگی بجلی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ عوام کو خطے میں سب سے مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ہر حکومت توانائی بحران کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈالتی رہی ہے۔
موجودہ منظرنامے میں جہاں دنیا متبادل اور ماحول دوست توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان میں بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن زیادہ تر توجہ اب تک روایتی ذرائع پر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے مستقل پالیسی، سیاسی اتفاق رائے اور ماحول دوست منصوبوں کو ترجیح دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔






