اہم خبریںدنیا

🌍 ایران کی خطے میں امن قائم رکھنے کی خواہش، عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لینے کا مطالبہ

تہران – ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن ملکی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے اسرائیلی حملوں کو "سرخ لکیر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں امریکا کی شمولیت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، تاہم ایران صبر و تحمل کے ساتھ معاملات کو سفارتی دائرے میں حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

🇮🇷 ایران کا مؤقف: جوہری حق سے دستبردار نہیں ہوں گے
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور دنیا کی کسی بھی خودمختار ریاست کی طرح ایران کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ توانائی کی ترقی کے لیے افزودہ یورینیم پیدا کرے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران 60 فیصد سے زائد یورینیم افزودگی کا عمل جاری رکھے گا، لیکن جوہری توانائی کے استعمال کو کبھی جنگی ہتھیاروں کی طرف نہیں لے جائے گا۔ “ہم معاہدوں کے پابند ہیں، لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”

🕊️ امن کی اپیل، جنگ سے گریز
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیج فارس کا علاقہ حساس اور توانائی کا عالمی مرکز ہے، اس لیے ایران ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو مجبور کیا گیا، تو دفاعی اقدامات ضرور ہوں گے، لیکن ترجیح ہمیشہ سفارت کاری کو دی جائے گی۔

🌐 عالمی برادری سے مؤثر کردار کی اپیل
عراقچی نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا نوٹس لیا جائے، کیونکہ ان کا مقصد صرف ایران کو نہیں، بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

🔍 پس منظر
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جنہیں ایران نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ ان حملوں کے نتائج پر غور کر رہا ہے لیکن ترجیح سفارتی حل کو دی جائے گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button