اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 15 ہائی پروفائل مقدمات کو قلیل مدت میں حل کرنے پر اسلام آباد پولیس کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ویلڈن اسلام آباد پولیس! آپ کی کارکردگی پر پوری قوم کو فخر ہے۔”
وزیر داخلہ نے ثناء یوسف اور سردار فہیم قتل کیس سمیت دیگر اہم مقدمات کے ملزمان کی گرفتاری پر اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کو "پیشہ ورانہ مہارت کی اعلیٰ مثال” قرار دیا۔
پولیس ٹیم کی خصوصی ملاقات
وفاقی وزیر نے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، ڈی آئی جی جواد طارق، ایس ایس پی شعیب محمد، ایس پی سلیمان ظفر، اے ایس پی علی رضا اور کیسز پر کام کرنے والی انویسٹی گیشن ٹیمز سے ملاقات کی اور ان کی محنت، پیشہ ورانہ لگن اور تکنیکی مہارت کی بھرپور تعریف کی۔
جدید ٹیکنالوجی کا قابلِ تحسین استعمال
محسن نقوی نے کہا کہ سردار فہیم قتل کیس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریس کرنا اسلام آباد پولیس کی جدید اندازِ تحقیق کی عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ اندھے قتل جیسے پیچیدہ کیسز کو بھی قلیل وقت میں حل کیا گیا۔
کانسٹیبل رانا وسیم کے لیے ترقی کا اعلان
اس موقع پر وزیر داخلہ نے 21 سال سے کانسٹیبل کے عہدے پر خدمات انجام دینے والے رانا وسیم کی کارکردگی کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے ان کی قواعد کے مطابق ترقی کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"رانا وسیم جیسے فرض شناس اہلکار ہماری پولیس فورس کا فخر ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور ترقی ناگزیر ہے۔”
شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح
محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد پولیس اسی جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا مشن جاری رکھے گی۔
"قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے سفر میں اسلام آباد پولیس کی شاندار کارکردگی نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے” – محسن نقوی






