اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

خیبر پختونخوا بجٹ منظوری پر سیاسی مشاورت جاری، 24 جون کو فنانس بل منظوری کا امکان

پشاور (نیوز ڈیسک) – خیبر پختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں، جبکہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے مشاورت کے بعد ہی بجٹ منظوری کی ہدایت دی گئی ہے۔ بجٹ شیڈول کے مطابق 24 جون کو فنانس بل اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، مشیر خزانہ اور سابق وزیر تیمور سلیم جھگڑا کو بانی چیئرمین کی جانب سے مشاورت کے لیے طلب کیا گیا ہے تاکہ بجٹ منظوری سے قبل حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

آئینی تقاضے اور ممکنہ بحران
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ 30 جون سے پہلے منظور کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو یکم جولائی سے سرکاری فنڈز کا اجرا رک سکتا ہے، جس کے باعث صوبہ مالی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 اور 235 کے تحت ایسے بحران کی صورت میں وفاق کو ایمرجنسی اقدامات کا اختیار حاصل ہے۔

سیاسی اور انتظامی سطح پر مشاورت جاری
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ شیڈول کے مطابق منظور ہو تاکہ آئینی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا:
"ہمارے قائد کا حکم ہے کہ مشاورت کے بغیر بجٹ کی منظوری نہیں دی جائے گی، تاہم ہم چاہتے ہیں کہ کوئی آئینی بحران پیدا نہ ہو۔”

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی واضح کیا ہے کہ "بجٹ کی منظوری بانی چیئرمین کی مشاورت سے مشروط ہے۔”

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"وزیر اعلیٰ پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھیں، بجٹ کی منظوری ناگزیر ہے، چاہے مشاورت ہو یا نہ ہو۔”

اسمبلی میں بجٹ عمل کا آغاز، مطالباتِ زر کی منظوری شروع
دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی نے بجٹ پر ابتدائی بحث کے بعد سرکاری محکموں کے مطالباتِ زر کی منظوری کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد 24 جون کو بجٹ کا فنانس بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

فی الوقت وزیراعلیٰ نے حکومتی ارکان کو مطالباتِ زر پر ووٹنگ سے روک رکھا ہے، تاہم اسمبلی، محکمہ قانون اور حکومتی ٹیم کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔

سیاسی عمل جاری، حل کی امید برقرار
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بجٹ اجلاس 24 جون تک مکمل نہ ہو سکا تو اسمبلی سیشن میں توسیع یا نیا ایجنڈا شامل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے بجٹ کی بروقت منظوری یقینی بنائی جائے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button