اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایلون مسک کا نیا سیاسی قدم؟ ‘امریکا پارٹی’ بنانے کا عندیہ، سینیٹ کے بل پر شدید ردعمل

کیلی فورنیا: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی اور معروف بزنس ٹائیکون ایلون مسک نے امریکی سینیٹ میں زیر غور نئے بجٹ بل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:
"جن اراکینِ کانگریس نے عوام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ملکی قرضے میں ریکارڈ اضافہ کیا، انہیں شرم آنی چاہیے۔ اگر یہ میری زندگی کا آخری کام بھی ہوا، تو میں انہیں اگلے الیکشن میں ہراؤں گا۔”

مسک کے مطابق اگر یہ بجٹ بل منظور ہوتا ہے تو وہ اگلے ہی دن ‘امریکا پارٹی’ کے قیام کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے دو بڑی سیاسی جماعتوں—ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز—کو "یونی پارٹی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک نئے اور حقیقی متبادل کی ضرورت ہے۔

275 ملین ڈالر کی حمایت، اب پالیسیوں سے اختلاف
یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کی حمایت کے لیے تقریباً 275 ملین ڈالر خرچ کیے تھے۔ تاہم، اب وہ خود اسی کیمپ کی جانب سے پیش کردہ مالیاتی بل کے شدید ناقد بن کر سامنے آئے ہیں۔

مسک کے مطابق بل میں شامل تجاویز اگلے 10 سالوں میں امریکی بجٹ خسارے کو 3.3 ٹریلین ڈالر تک بڑھا دیں گی، جس سے "آنے والی نسلیں قرض کی غلامی میں چلی جائیں گی۔”

مستقبل کی صنعتوں سے دوری پر تشویش
ایلون مسک نے بل کے مندرجات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس میں شامل ٹیکس کٹوتیاں، سرکاری اخراجات میں کمی اور محدود آمدنی بڑھانے کی تجاویز امریکہ کے مستقبل کی معیشت—جیسے برقی گاڑیاں اور صاف توانائی—کی بجائے ماضی کی صنعتوں کو فائدہ دیتی ہیں۔

امریکا پارٹی: سیاست میں نیا موڑ؟

اگر ایلون مسک اپنی بات پر عمل کرتے ہیں، تو یہ امریکی سیاست میں بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ایک بزنس مین کی جانب سے ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالنا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک سیاسی تقسیم کا شکار ہے، غیر معمولی اقدام ہوگا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button