بھارت کا بڑا فیصلہ: چار سال بعد کابل میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان
نئی دہلی/کابل (عالمی خبر رساں ادارہ) – بھارت نے چار سال بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اس فیصلے کا اعلان افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا۔
یاد رہے کہ بھارت نے 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل میں اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا اور سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔ تاہم، 2022 میں ایک محدود تکنیکی مشن انسانی ہمدردی، طبی امداد اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ قائم کیا گیا تھا، جسے اب مکمل سفارتخانے کی حیثیت دی جا رہی ہے۔
"بھارت افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے” – جے شنکر
ملاقات کے دوران جے شنکر نے کہا:
"بھارت افغانستان کی خودمختاری، سالمیت اور آزادی کا مکمل احترام کرتا ہے۔ ہم علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہاں ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ بھارت افغانستان میں انسانی امداد، تعلیم، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
"افغانستان بھارت کو قریبی دوست سمجھتا ہے” – امیر خان متقی
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے نئی دہلی میں اپنے بیان میں کہا:
"بھارت نے حالیہ زلزلے کے بعد سب سے پہلے امداد فراہم کی۔ ہم بھارت کو ایک قریبی دوست سمجھتے ہیں، اور باہمی احترام، تجارتی تعاون اور عوامی روابط پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے بھارتی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں سفارتی مشن کی مکمل بحالی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دے گی۔
سفارتی تعلقات میں پیش رفت، مگر باضابطہ تسلیم ابھی باقی
بھارت نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں اور سفارتی بات چیت سے تعلقات میں بتدریج نرمی آ رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امیر خان متقی نے ماسکو میں علاقائی اجلاس میں شرکت کی، جہاں پاکستان، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے امریکا کی بگرام ایئربیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی تجویز کی مخالفت کی۔
تجزیہ
سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ قدم افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور چین و پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ ساتھ ہی، یہ فیصلہ بھارت کی علاقائی ساکھ اور اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔






