اسلام آباد / ملک بھر — پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کی جانب سے بھرپور انداز میں قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ معاشی دباؤ کو کم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر نظرثانی کی جائے۔
عوامی رائے: مہنگائی پر اثرات
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر اشیائے خور و نوش اور نقل و حمل کے اخراجات پر پڑے گا، جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی اور خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
ایک شہری نے کہا:
"جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اور پھر سبزیاں، آٹا، دودھ، ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ حکومت کو غریب آدمی کا بھی سوچنا چاہیے۔”
حکومت کا مؤقف اور آئندہ حکمتِ عملی
واضح رہے کہ حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 266.79 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی 272.98 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر، اور محصولات کی پالیسی کے باعث قیمتوں میں تبدیلی ناگزیر تھی، تاہم عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت مستقبل میں قیمتوں پر نظرثانی اور ممکنہ ریلیف پیکجز کی تیاری پر غور کر رہی ہے۔
امید کی کرن
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت عوامی رائے کو اپنی مالی پالیسی میں شامل کرے اور سبسڈی یا اسمارٹ ریلیف اقدامات متعارف کرائے، تو یہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔






