واشنگٹن/یروشلم — امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان حالیہ تناؤ کے تناظر میں اسرائیل کو 510 ملین ڈالر مالیت کے بم گائیڈنس کٹس اور دیگر جدید دفاعی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے تحت سیکیورٹی تعاون ادارے (DSCA) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ممکنہ فروخت اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے گی تاکہ وہ "موجودہ اور مستقبل کے خطرات” سے نمٹ سکے۔ بیان کے مطابق یہ دفاعی سازوسامان اسرائیل کو اپنی سرحدوں، اہم انفرا اسٹرکچر اور شہری مراکز کے تحفظ کے لیے مضبوط سہارا فراہم کرے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے اسرائیل کی سلامتی کو تقویت ملے گی، جو امریکا کے قومی مفادات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ تاہم اس سودے کو حتمی منظوری کے لیے اب امریکی کانگریس کو بھیجا گیا ہے۔
پسِ منظر میں ایران اسرائیل کشیدگی
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں پر فضائی حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کی سفارتی کوشش کی، لیکن بعد ازاں ایرانی تنصیبات پر حملوں کی منظوری دے دی۔ اس کے باوجود، حالیہ دنوں میں ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، مگر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ "ایران کو دوبارہ جوہری تنصیبات قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی” — ایک بیان جو مستقبل میں مزید کشیدگی کا اشارہ دیتا ہے۔
علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتی ہے، اور اس سے ایران، شام، اور حزب اللہ جیسے فریقین کے ساتھ مزید تناؤ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ تاہم امریکی حکام کا اصرار ہے کہ یہ اقدام محض دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی نئی جنگ کو ہوا دینا نہیں۔






