پاکستان کا باوقار مؤقف، پائیدار امن اور قومی خودمختاری کے تحفظ پر زور: اسحاق ڈار
اسلام آباد – 30 جون 2025
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو بھارت کی آبی جارحیت کے نتیجے میں یرغمال نہیں بننے دے گا اور علاقائی امن کے لیے باعزت و باوقار حل کا خواہاں ہے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز (ISSI) کی 52ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔
سندھ طاس معاہدے کا احترام، مگر یکطرفہ فیصلے ناقابل قبول
اسحاق ڈار نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف اس معاہدے کی روح کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے بلکہ 220 ملین عوام کے آبی حقوق کا ہر صورت دفاع کرے گا۔
علاقائی امن اور کشمیر پر واضح مؤقف
ڈار نے کہا کہ پاکستان اعتماد سازی، جنگ بندی اور باہمی احترام کی بنیاد پر علاقائی سلامتی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا:
"ہم جموں و کشمیر کے مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں، جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔”
بین الاقوامی ذمہ داریوں کا ادراک اور قیام امن کی کوششیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ذمہ دار ریاست کے طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں امن، انصاف، موسمیاتی تحفظ اور اسلاموفوبیا کے خاتمے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
فلسطین و ایران کے حق میں واضح آواز
اسحاق ڈار نے فلسطین کے حق میں پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا:
"غزہ میں اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول ہے، پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔”
ساتھ ہی انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ایران کے دفاع کے حق اور جنگ بندی کا خیر مقدم کرتا ہے۔
سیاسی و اقتصادی سفارت کاری میں پیش رفت
ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان، چین، اور روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا ہے، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور یو اے ای کے ساتھ شراکت داری مزید مستحکم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"میں پہلے دن سے اقتصادی سفارت کاری پر زور دے رہا ہوں، تاکہ خارجہ پالیسی براہ راست پاکستان کے معاشی مفادات سے جڑی ہو۔”
ISSI کے کردار کو سراہا
اسحاق ڈار نے ISSI کے تحقیقی و پالیسی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں علمی رہنمائی فراہم کر رہا ہے، جو ایک مثبت اور متحرک ریاستی حکمت عملی کی علامت ہے۔
خلاصہ:
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا خطاب ایک متحرک، باعزت اور اصولی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے، جس میں پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں امن، انصاف اور تعاون کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔






