مولانا فضل الرحمٰن کا بٹگرام میں خطاب: جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کا دفاع ہمارا مشن ہے
بٹگرام – جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بٹگرام میں "شعائرِ اسلام کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کی طرح 2024 کے انتخابات بھی شفافیت سے محروم ہیں، اور جے یو آئی ایسے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتی جن میں عوامی رائے کی صحیح ترجمانی نہ ہو۔
مولانا فضل الرحمٰن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور جے یو آئی کے درمیان کوئی طاقت فاصلہ پیدا نہیں کر سکتی۔ "ہم انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور پاکستان میں ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو عوامی امنگوں اور آئین کی روح کے مطابق ہو،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک آئینی پٹری سے اتر رہا ہے، اور حکمرانی صرف عوام کی مرضی سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے فاٹا انضمام کے حوالے سے ماضی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس وقت قبائل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کے نتائج آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سوات میں حالیہ طغیانی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے انتظامیہ اور عوام دونوں سے اپیل کی کہ وہ سیاحتی مقامات پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
عالمی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی اور کہا کہ عالمی ضمیر کو صرف تب بیداری آتی ہے جب مسلمانوں کے بجائے دیگر اقوام متاثر ہوں۔ "جب فلسطینی شہید ہو رہے تھے تو امن کی بات کوئی نہ کرتا، آج جب ایران نے ردعمل دیا ہے تو عالمی طاقتوں کو امن یاد آ رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں حالیہ قانون سازی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے جے یو آئی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب عوامی حقوق، جمہوری اقدار، اور آئین کی بالادستی کے عزم کا اعادہ تھا، جس میں انہوں نے واضح پیغام دیا کہ جے یو آئی ہر حال میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔






