اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملکی معیشت، مقامی صنعتوں کے تحفظ اور تجارتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے لیے 285 درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹیز میں مکمل یا جزوی چھوٹ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی صنعتوں کو غیر ملکی مسابقت سے بچانا اور پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
درآمدی پالیسی میں متوازن نظرثانی، ملکی مفادات مقدم
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پانچ سالہ نئے ٹیرف پالیسی پلان کے تحت کیا گیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر 1984 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹیز ختم یا کم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم نظرثانی کے بعد 285 اشیاء پر دوبارہ ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جن کا نوٹیفکیشن پیر کو جاری ہوگا۔
ریونیو میں استحکام، صنعتوں کو چینی مصنوعات سے تحفظ
نظرثانی شدہ فیصلے سے مجوزہ ریونیو خسارہ 200 ارب روپے سے کم ہو کر 174 ارب روپے تک لانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق اگر تمام مصنوعات پر ڈیوٹیز کم کی جاتیں تو چینی مصنوعات کی یلغار سے مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔
درآمدات میں کمی، زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ
وزیراعظم شہباز شریف کو کمیٹی اراکین کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر برآمدات متوقع حد تک نہ بڑھیں تو زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے بعد فیصلے پر ازسرِ نو غور کیا گیا۔
صنعت دوست پالیسی: خام مال پر ریلیف برقرار
اگرچہ تیار شدہ درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی بحال کی گئی ہے، تاہم خام مال اور نیم تیار شدہ اشیاء پر ٹیرف میں نرمی کی پالیسی بدستور جاری رہے گی تاکہ مقامی مینوفیکچررز کو سہولت میسر ہو۔
حکومتی مؤقف: ترقی اور تحفظ ساتھ ساتھ
وزیراعظم کے مشیر تجارت رانا احسان افضل کے مطابق:
"پانچ سالہ ٹیرف پلان کا بنیادی مقصد برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، اور عالمی مسابقت میں بہتری ہے۔ ہم ٹیرف شرح کو بتدریج 20.2 فیصد سے 9.7 فیصد تک لانے کے ہدف پر قائم ہیں، لیکن یہ سب قومی مفاد اور معاشی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر ہوگا۔”






