تل ابیب: اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں شہریوں نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ایک بڑا اور پُرامن مظاہرہ کیا، جس میں غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی میں ناکامی پر حکومت پر سخت تنقید کی گئی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ سامنے آیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ کے خاتمے، انسانی جانوں کے تحفظ اور غزہ میں پائیدار امن کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جو نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنائیں بلکہ خطے میں جاری انسانی بحران کو بھی کم کریں۔
جمہوریت کی علامت: عوام کی آواز بلند
اس مظاہرے کو تجزیہ کار اسرائیلی جمہوریت میں بیداری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ایک مقامی پروفیسر کا کہنا تھا:
"یہ احتجاج ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل میں عوام اپنی آواز بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں اور وہ صرف امن چاہتے ہیں۔”
یہ مظاہرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اندر اور عالمی سطح پر بھی غزہ جنگ کے انسانی اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ماضی میں بھی احتجاج ہوتے رہے ہیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو حکومت کے اقدامات پر سوالات اٹھائے ہوں۔ اس سے قبل بھی عدالتی اصلاحات، معیشت، اور غزہ پالیسی پر مختلف مواقع پر لاکھوں شہری سڑکوں پر آ چکے ہیں، جو ایک زندہ جمہوریت کی نشانی ہے۔
پیغام واضح: امن کی خواہش سب سے بڑی طاقت
مظاہرین کا یہ پیغام ایک بار پھر دنیا کے سامنے آیا ہے کہ عام لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں اور امن و انصاف کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قیادت انسانی جانوں کی قدر کرے اور دیرپا امن کے لیے فوری اقدامات کرے۔






