سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: مخصوص نشستوں کا 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے محروم
اسلام آباد — سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں دائر نظرثانی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی، جبکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 77 نشستیں حکومتی اتحاد کو مل گئیں۔
سپریم کورٹ کے 10 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت مکمل کی۔ فیصلے میں سات جج صاحبان نے اکثریتی رائے سے نظرثانی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
فیصلے کی اہم نکات:
پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں سے محروم قرار دے دیا گیا۔
حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلی کی 55 نشستیں مل گئیں۔
قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل، 237 اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی۔
الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کا تعین کرے۔
بینچ کے اکثریتی فیصلے میں جسٹس امین الدین، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس عامر فاروق، جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے جزوی اختلافی نوٹ دیا اور 39 نشستوں تک اپنی رائے برقرار رکھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر نے مشروط طور پر نظرثانی کی درخواستیں منظور کیں۔
بینچ میں تبدیلی:
سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس صلاح الدین پنہور نے خود پر اعتراضات کے باعث بینچ سے علیحدگی اختیار کرلی۔ انہوں نے واضح کیا کہ علیحدگی کو کسی اعتراض کے اعتراف کے طور پر نہ لیا جائے، بلکہ ادارے کی ساکھ کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
پس منظر:
یہ کیس 13 رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ چند ججز نے خود کو بینچ سے علیحدہ کر لیا یا ابتدائی سماعت میں ریویو درخواستیں مسترد کر دیں۔ آج کی سماعت 10 رکنی بینچ نے مکمل کی۔
آئندہ کا لائحہ عمل:
فیصلے کے مطابق اب الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کی حتمی تقسیم کا فیصلہ کرے گا، جس سے پارلیمانی سیاست میں نیا منظرنامہ تشکیل پانے کا امکان ہے۔






