وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی اور حکومت میں اتفاق، بلاول بھٹو آج اسمبلی میں تقریر کریں گے
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان وفاقی بجٹ پر معاملات طے پا گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بجٹ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور حکومت کو باضابطہ اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پیپلز پارٹی کے اکثر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جس کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بجٹ پر حکومت سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ بلاول بھٹو نے مذاکرات میں حصہ لینے والی ٹیم کو شاباش بھی دی ہے۔
بلاول بھٹو کی بجٹ تقریر کے اہم نکات
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی بجٹ تقریر کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور وہ آج قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان کی تقریر تقریباً آدھے گھنٹے پر محیط ہوگی جس میں وہ حالیہ دورہ امریکا، برطانیہ اور یورپ کا ذکر کریں گے۔
بلاول بھٹو اپنی تقریر میں:
پیپلز پارٹی کا بجٹ پر مؤقف پیش کریں گے
سندھ سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات پر روشنی ڈالیں گے
صوبہ سندھ کے بجٹ کے اہم نکات کا تذکرہ کریں گے
ملک کو درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے پر زور دیں گے
سیاسی مفاہمت اور اتفاق رائے کی اہمیت پر تاکید کریں گے
چند مطالبات سے دستبرداری
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ملازمین کی کم از کم تنخواہ کی حد اور پنشن میں اضافے کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی بیواؤں کو تا عمر پنشن دینے کے مطالبے کو بھی پی پی نے واپس لے لیا ہے، کیونکہ حکومت نے ان تجاویز کو قبول نہیں کیا تھا۔
یہ پیش رفت وفاقی بجٹ کی منظوری میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے جس سے حکومت کو بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں آسانی ہو گی۔






