لندن / تہران / واشنگٹن: ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد بین الاقوامی سطح پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس تناظر میں اپنے بیان میں زور دیا ہے کہ:
"ایران کا جوہری پروگرام عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، لیکن موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ ایران کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔”
برطانیہ کا پرامن حل پر زور
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
"ہم اس نازک گھڑی میں سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے حامی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔”
امریکا کے بی 2 بمبار حملے کی تفصیل
دوسری جانب، امریکی بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — پر کارروائی کی۔ ایرانی حکام نے حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم نقصانات کی حتمی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے ردعمل میں کہا:
"یہ حملے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ایران اپنی قومی جوہری صنعت کی ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
ایران کا اسرائیل پر میزائل حملے سے جواب
امریکی حملے کے فوری بعد، ایران نے اسرائیلی اہداف پر میزائل حملے کرکے اپنے ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے 20 سے 40 ’خیبر شکن‘ میزائل تل ابیب اور دیگر اسرائیلی شہروں پر داغے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سفارتی راستے کی امید باقی ہے
عالمی ماہرین اس صورتحال کو نئے عالمی بحران کا آغاز قرار دے رہے ہیں، لیکن برطانوی وزیراعظم کی اپیل نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ:
"سفارتی حل ہی دنیا کو ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچا سکتا ہے۔”
🌐 عالمی برادری کی نظریں اب ایران، امریکا اور خطے کے دیگر اہم کھلاڑیوں کی اگلی حکمت عملی پر جمی ہوئی ہیں، جہاں سفارت کاری اور صبر ہی دیرپا امن کی امید بن سکتے ہیں۔






