نوبیل انعام کی نامزدگی غلامی کی آخری حد ہے، بیرسٹر سیف کا وزیراعظم شہباز شریف پر سخت ردعمل
پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ "شہباز شریف خوشامد چھوڑ کر ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ کہنے کی ہمت پیدا کریں، اقتدار کے لیے خوشامد کے بجائے قیدی نمبر 804 بن جانا بہتر ہے۔”
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے ٹرمپ کی نامزدگی کو "غلامی کی انتہا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"جس صدر نے ایران کے معصوم شہریوں پر براہِ راست حملہ کیا، جس نے آٹھ بار غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو مسترد کیا، اُسے امن کے انعام کے لیے نامزد کرنا عقل و فہم کی توہین ہے۔”
"امتِ مسلمہ کے خون کا سودا نہ کریں”
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ملکی و قومی مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ:
"شہباز شریف صرف اقتدار کی خوشامد میں مصروف ہیں، لیکن اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عوام اس طرزِ سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا:
"عمران خان نے کبھی امت مسلمہ کے خون کا سودا نہیں کیا، اسی ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ پالیسی کی بدولت وہ آج بھی عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔”
سیاسی منظرنامے میں نئی گرماہٹ
بیرسٹر سیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر پاکستان کے مؤقف پر سیاسی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ شہباز شریف کے مبینہ مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بیرسٹر سیف نے قومی وقار کو اولیت دینے پر زور دیا۔
سیاسی ردعمل کا انتظار
اب تک وزیراعظم یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیرسٹر سیف کے بیان پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔






