اسلام آباد/واشنگٹن — تعلیم ڈیسک
امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی حکومت نے اسٹوڈنٹ ویزا پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔
تاہم، نئے ضوابط کے تحت درخواست دہندگان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک حکومتی رسائی دینا لازمی ہوگا تاکہ سیکیورٹی اور قومی مفادات کے مطابق ویزا پروسیسنگ کی جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مئی میں عائد کی گئی عارضی پابندی اب ختم کر دی گئی ہے، اور ویزا انٹرویوز دوبارہ شیڈول کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا اسکریننگ کا مقصد صرف ایسی پوسٹس کی جانچ کرنا ہے جو امریکا کی قومی سلامتی، ثقافت، اداروں یا آئینی اقدار کے خلاف ہوں۔
✅ ویزا بحالی سے طلبہ کے لیے نئے مواقع
طلبہ اور تعلیمی ادارے اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں، کیونکہ ویزا عمل کی بحالی سے ہزاروں طلبہ کو امریکا میں تعلیم کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ایک نیا موقع ملے گا۔
🔐 سوشل میڈیا کی شفافیت — ایک نیا تقاضا
نئے ضوابط کے تحت، درخواست دہندگان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ’پبلک‘ کرنا ہوں گے تاکہ قونصلر افسران ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لے سکیں۔ جو درخواست دہندہ اس تقاضے پر عمل نہ کرے گا، اس کی درخواست نظرثانی کے بغیر مسترد ہو سکتی ہے۔
🎓 تعلیمی حلقوں کا ردِ عمل
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا اسکریننگ ایک نئی نوعیت کا چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں ویزا عمل کی بحالی طلبہ کے لیے امریکا کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا نیا دروازہ کھولتی ہے۔






