اسلام آباد: پاکستان میں آن لائن ٹرانسپورٹیشن کا چہرہ بدلنے والی معروف ٹیکسی سروس Careem نے ملک بھر میں اپنی رائیڈ ہیلیِنگ سروسز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے لاکھوں صارفین اور ہزاروں ڈرائیورز متاثر ہوں گے۔
کمپنی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان میں رائیڈ سروسز بتدریج ختم کی جا رہی ہیں، تاہم Careem کی فوڈ ڈیلیوری اور دیگر ڈیجیٹل سروسز فی الحال محدود سطح پر جاری رہیں گی یا ان کے مستقبل کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔
Careem نے پاکستان میں 2016 میں اپنی سروسز کا آغاز کیا تھا اور کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد سمیت درجنوں شہروں میں لاکھوں صارفین کو سفری سہولت فراہم کی۔ کمپنی نے اس دوران مقامی مارکیٹ میں کئی روزگار مواقع پیدا کیے، خاص طور پر فری لانسنگ اور پارٹ ٹائم آمدنی کے شعبے میں۔
■ کاروباری فیصلہ یا مالی دباؤ؟
Careem کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں معاشی دباؤ، مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ریگولیٹری چیلنجز نجی ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے یہ فیصلہ مالی اعتبار سے مستحکم نہ ہونے والی صورتحال، سخت مسابقت اور طویل المدتی پائیداری کے خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔
■ صارفین اور ڈرائیورز کا ردعمل
Careem کے اس فیصلے پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے اسے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے متبادل سفری سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Careem کے ساتھ منسلک ہزاروں "کپتانوں” (ڈرائیورز) کے لیے یہ فیصلہ روزگار کے ایک اہم ذریعے کے ختم ہونے کے مترادف ہے۔ کمپنی نے اس موقع پر اپنے ڈرائیورز اور عملے کے لیے "مرحلہ وار معاونت” کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، تاہم تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
■ حکومت سے رجوع اور مستقبل کے امکانات
ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل اکنامی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس پیشرفت کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق شہری سفری سہولیات، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت سے ہے۔ یہ پیش رفت دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہے۔






