اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.81 ارب ڈالر کا تاریخی سرپلس، معیشت استحکام کی راہ پر گامزن 🌟

اسلام آباد — پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں مالی سال 2024-25 کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 1.812 ارب امریکی ڈالر کے سرپلس میں رہا ہے۔ یہ قابلِ ذکر پیشرفت گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.572 ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں زبردست بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ کامیابی بنیادی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ ترسیلاتِ زر (ورکرز ریمٹنسز) کی مرہونِ منت ہے، جو جولائی تا مئی 2024-25 کے دوران 34.89 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے 27.09 ارب ڈالر سے 30 فیصد زائد ہیں۔

📊 دیگر اہم معاشی اشاریے:
ثانوی آمدنی (Secondary Income) کا بیلنس 36.76 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے 28.84 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے، جو مالیاتی استحکام کی علامت ہے۔

اگرچہ تجارتِ اجناس اور خدمات میں مجموعی خسارہ 27.06 ارب ڈالر رہا، لیکن یہ خسارہ ترسیلات اور دیگر بیرونی آمدنی کے باعث متوازن رہا۔

پرائمری آمدنی کا خسارہ معمولی اضافے کے ساتھ 7.89 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کی نسبت قریباً مستحکم ہے۔

📌 ایک چیلنج، کئی کامیابیاں:
مئی 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں معمولی خسارہ ($103 ملین) ضرور ریکارڈ ہوا، لیکن یہ اپریل 2025 کے سرپلس ($47 ملین) اور مئی 2024 کے بڑے خسارے ($235 ملین) سے نسبتاً بہتر سطح پر ہے۔

💬 ماہرین کیا کہتے ہیں؟
معاشی ماہرین اس پیش رفت کو پاکستان کی بیرونی کھاتوں کی بہتری اور مالی نظم و ضبط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سے ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم ہو گا، اور مستقبل میں مہنگائی اور درآمدی قیمتوں پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button