ریاض / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور دانش مندی سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد نے اسرائیلی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت خطے میں تنازعہ کو ہوا دے کر امریکا کو بھی اس جنگ میں ملوث کرنا چاہتی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے یقین ظاہر کیا کہ ایران دانش مندانہ اقدامات کے ذریعے تل ابیب کے اہداف کو ناکام بنا دے گا۔
ولی عہد نے مزید کہا:
"آج پوری اسلامی دنیا ایران کی حمایت میں متحد ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ تحمل اور حکمت عملی سے کام لے کر خطے کو بڑی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔”
دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ان کی حکومت نے آغاز سے ہی خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو اولین ترجیح دی، تاہم جب بھی وہ ان مقاصد کے قریب پہنچتے، اسرائیل ان کوششوں کو نقصان پہنچاتا رہا۔
صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور ایران مل کر خطے میں ایک پائیدار اور دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
"ہم پرعزم ہیں کہ باہمی اعتماد، گفت و شنید اور علاقائی تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو تنازعات کے بجائے ترقی، بھائی چارے اور استحکام کا مرکز بنائیں گے،” انہوں نے کہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی رابطہ نہ صرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کی علامت ہے بلکہ یہ خطے میں ایک متوازن اور سفارتی راستہ اپنانے کی کوششوں کا حصہ بھی ہے، جو موجودہ کشیدہ حالات میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔






