لندن: وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے جنگی طیارے اور دیگر دفاعی اثاثے تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ کے قومی مفادات اور عالمی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
جی 7 سربراہی اجلاس کے لیے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم اسٹارمر نے کہا:
"ہم خطے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ برطانیہ ہمیشہ اپنے مفاد اور عالمی امن کے حق میں درست فیصلے کرے گا۔”
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق اس اقدام کے تحت اضافی فاسٹ جیٹ طیارے اور ایندھن فراہم کرنے والے جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے جا چکے ہیں تاکہ ممکنہ کشیدگی کی صورت میں فوری فضائی معاونت فراہم کی جا سکے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافے کے بعد بین الاقوامی برادری صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ تعیناتی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ کسی بھی صورت حال میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، تاہم انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائیوں یا برطانیہ کے مخصوص کردار پر تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔
"یہ عملیاتی نوعیت کے فیصلے ہیں، اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہم خطے میں اپنی موجودگی کو مزید فعال بنا رہے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع خطرے سے نمٹا جا سکے،” وزیرِاعظم نے کہا۔
مبصرین کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم نہ صرف خطے میں اپنے سفارتی اور عسکری اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر اس کی حکمتِ عملی کا مظہر بھی ہے۔






