کراچی – 14 جون: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ حکومت نے اپنا 17واں کامیاب بجٹ پیش کر کے عوامی خدمت کے سفر کو جاری رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
ترقیاتی ترجیحات: پانی، سڑکیں، اور شہری سہولیات
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے 90 ارب روپے کی اسکیمیں شروع کی جا رہی ہیں، جبکہ کراچی جیسے بڑے شہر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 236 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی متعدد منصوبے جاری ہیں، جن میں ڈی سالینیشن پلانٹس، ہزار نئی بسیں، اور میگا انفرااسٹرکچر اسکیمیں شامل ہیں۔
"ہمارا مقصد ہر شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے،” مراد علی شاہ نے کہا۔
وفاقی مالی چیلنجز کے باوجود عزم برقرار
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بجٹ سے محض ایک دن قبل وفاق کی جانب سے متوقع فنڈز میں اچانک کمی کا اعلان کیا گیا، لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں کوئی کٹوتی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو این ایف سی سے 1900 ارب کی بجائے صرف 961.7 ارب روپے دیے جا رہے ہیں، جس کے باوجود حکومت نے 1460 جاری ترقیاتی اسکیموں کو رواں سال مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلامی یکجہتی پر واضح مؤقف
مراد علی شاہ نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کے خلاف اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس حملے کے خلاف قرارداد اسمبلی سے منظور کروا کر عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔
"دہشتگردی کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کے خلاف رویہ افسوسناک ہے، ہم انسانیت اور انصاف کے اصولوں پر کھڑے ہیں،” وزیر اعلیٰ نے زور دیا۔
مستقبل کا وژن: عوامی خوشحالی کی طرف پیش قدمی
مراد علی شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت تعلیم، صحت، روزگار، اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں ترقیاتی رفتار کو مزید تیز کرے گی، اور صوبے کو ایک خوشحال، مستحکم اور جدید خطہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔






