اسلام آباد: ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف پاکستانی پارلیمنٹ نے واضح اور متفقہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید مذمتی قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے برادر اسلامی ملک ایران سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی، جس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کا معمول کا بزنس مؤخر کرنے کی تحریک پیش کی تاکہ ایران پر اسرائیلی حملے پر بحث اور مذمتی قرارداد پیش کی جا سکے۔ یہ تجویز منظور کر لی گئی۔
پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر، پی ٹی آئی کے ملک عامر ڈوگر اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے مشترکہ طور پر متفقہ قرارداد کا مجوزہ مسودہ پیش کیا، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
🕊️ قومی اسمبلی کی قرارداد کے نکات:
اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت
ایران کے عوام، سیکیورٹی فورسز، اور سائنسدانوں پر حملوں کی شدید مذمت
پاکستانی عوام، حکومت اور پارلیمنٹ کا ایران کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی
عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ
💬 قومی اسمبلی میں رہنماؤں کے مؤقف:
بیرسٹر گوہر (پی ٹی آئی): "مسلم دنیا کو اب آنکھیں کھولنی ہوں گی، فوری طور پر او آئی سی اور عرب لیگ کی کانفرنس بلائی جائے۔”
رانا تنویر حسین (وفاقی وزیر): "دنیا کی خاموشی اسرائیل کو ریاستی دہشتگردی کی شہ دے رہی ہے۔”
راجا پرویز اشرف (پی پی پی): "اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے پاکستان پر بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ مسلم دنیا اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔”
حافظ حامد رضا: "اسرائیل ایک دہشتگرد ریاست ہے، اور پاکستان کو ایران سے براہ راست پوچھنا چاہیے کہ اسے کس قسم کی مدد درکار ہے۔”
🏛️ سینیٹ اجلاس میں بھی متفقہ قرارداد منظور
دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں بھی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران پر اسرائیلی حملے کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پالیسی بیان اور قرارداد ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
📜 سینیٹ قرارداد کے اہم نکات:
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے جنگی جرم کا ارتکاب کیا
اسرائیل کی جارحیت اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے
سینیٹ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی حمایت کرتا ہے
غزہ، فلسطین اور ایران پر اسرائیلی مظالم کی مذمت






