اسلام آباد / کراچی / پشاور – ملک کے دو بڑے صوبے سندھ اور خیبرپختونخوا آج اپنے مالی سال 2024-25 کے بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں بجٹ میں وفاقی حکومت کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سندھ کا بجٹ: ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 504 ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی میں جاری بڑے منصوبوں کو خاص توجہ دی جائے گی، جن کے لیے 21 ارب روپے کی رقم الگ سے مختص کی گئی ہے۔
توقع ہے کہ سندھ حکومت تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور پینے کے پانی سے متعلق منصوبوں کو بجٹ میں ترجیح دے گی۔
خیبرپختونخوا کا بجٹ: سرپلس اور ترقیاتی ترجیحات
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔
صوبائی مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کے مطابق:
"ہم ترقیاتی اخراجات میں 40 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، جس کا مقصد صوبے کی معیشت کو متحرک کرنا اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو وسعت دینا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ بجٹ میں تعلیمی ایمرجنسی، صحت کارڈ اسکیم اور نقل و حمل (بس سروسز) کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے جائیں گے۔
دونوں صوبائی بجٹ عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی بہتری اور مالی خودمختاری کی سمت اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے تو یہ صوبوں کی مجموعی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔





