اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پانی پر سیاست نہیں، امن چاہتے ہیں: بلاول بھٹو کا بھارت کو سخت پیغام "اگر بھارت نے پانی روکا تو جنگ ناگزیر ہو گی”

لندن / واشنگٹن / اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی پانی کی فراہمی روکی، تو خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ایک "بڑا اعلان” کیا گیا ہے، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "اگر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، تو اس کے عالمی سطح پر سنگین اثرات ہوں گے۔ آج اگر یہ پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے تو کل کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ خود بھارت کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”

"دنیا پاکستان کا مؤقف سن رہی ہے”
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ دورۂ امریکا اور برطانیہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جس عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے، اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم جو مؤقف لے کر آئے ہیں، وہ سچ پر مبنی اور مضبوط ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں اور جوہری تناؤ کے خطرات کے باوجود دنیا سے بات چیت کے حامی ہیں۔ امریکا سمیت کئی ممالک ہمارے اقدامات کو تسلیم کر رہے ہیں اور تعاون کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔”

ایف اے ٹی ایف اور عالمی اعتماد
سابق وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام تقاضے مکمل کیے اور اسی بنیاد پر ملک کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کیا گیا۔

"جب میں وزیر خارجہ تھا تو ہم نے دہشتگرد گروپس کے خلاف عملی اقدامات کیے، جن کی امریکا سمیت تمام عالمی اداروں نے تصدیق کی۔ آج پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے،” بلاول کا کہنا تھا۔

"انڈیا کے حامی بھی تسلیم کر چکے ہیں”
پہلگام واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ "امریکا میں بھارت کے حامی بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ بھارت نے اس واقعے کے کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات اکثر زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، اور اب عالمی برادری بھی اس حقیقت کو سمجھنے لگی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button