دبئی/لاہور – پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باعث ایشیاکپ 2025 کی میزبانی بھارت سے غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، تاہم کرکٹ شائقین کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کا انعقاد ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کیا جائے گا تاکہ کھیل جاری رہے اور شائقین کا جوش قائم رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹیم کی جانب سے ممکنہ عدم شرکت اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نہ آنے کے فیصلے کے بعد، ایشیاکپ کے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
ایشین کرکٹ کونسل کا متحرک کردار، اعلان جلد متوقع
ذرائع کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، اور امکان ہے کہ اے سی سی کے سربراہ محسن نقوی جلد اس حوالے سے باضابطہ اعلان کریں گے۔ یو اے ای کو غیر جانبدار مقام کے طور پر منتخب کرنے کی تجویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، تاہم میزبانی تکنیکی طور پر بھارت کے پاس ہی رہے گی۔
ایونٹ کی تیاری، فارمیٹ اور ٹیمیں
2025 کا ایشیاکپ ٹی20 فارمیٹ میں کھیلا جائے گا تاکہ 2026 کے ٹی20 ورلڈکپ کی تیاریوں کو تقویت مل سکے۔ ٹورنامنٹ میں 19 میچز دو ہفتوں پر محیط شیڈول کے تحت کھیلے جائیں گے، جس میں ایشیا کی بڑی ٹیمیں حصہ لیں گی۔
سہ ملکی سیریز بھی زیر غور
ایشیائی کرکٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستان، افغانستان اور یو اے ای کے درمیان ایشیاکپ سے قبل سہ ملکی سیریز کے انعقاد پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس سے ایشیاکپ سے پہلے کرکٹ کا بخار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
نتیجہ:
اگرچہ پاک بھارت کشیدگی نے کچھ چیلنجز کھڑے کیے ہیں، مگر ایشیاکپ 2025 کے انعقاد کا امکان اب بھی روشن اور متحرک سفارتی و اسپورٹس پالیسیوں کی بدولت برقرار ہے۔ شائقینِ کرکٹ کو اُمید ہے کہ کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھ کر کھیل کو جاری رکھا جائے گا، تاکہ ایشیا بھر کے عوام کو ایک شاندار کرکٹ فیسٹیول دیکھنے کو ملے۔






