اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکا میں موجودگی، عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند

واشنگٹن ڈی سی – پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی فوج کے 250ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں مدعو کیا جانا نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی کردار اور انسدادِ دہشت گردی میں اس کے شراکت دار ہونے کی واضح توثیق بھی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر 7 جون سے 14 جون تک جاری تقریبات کے اختتامی دن شرکت کریں گے۔ ان کے اس دورے کی تفصیلات انتہائی رازداری سے رکھی گئی ہیں، جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ دعوت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب خطے میں حالیہ پاک-بھارت کشیدگی، بھارتی پروپیگنڈہ اور پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کی فضا قائم ہے۔

اس تناظر میں امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل مائیک ایرک کوریلا کا امریکی کانگریس کے سامنے دیا گیا بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی میں ایک "مثبت، مفید اور قابلِ اعتماد شراکت دار” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں توازن کی ایک نئی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

بھارت میں اس پیش رفت پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا اور لابیز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دعوت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ، بالخصوص پینٹاگون نے پاکستان کے کردار کی کھل کر حمایت کی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ پاکستان کا بیانیہ بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل کر رہا ہے۔

مزید برآں، سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے بھی عاصم منیر کے دورے کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے اور اسے اس دور کی یاد دلائی ہے جب پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان رابطے قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

دوسری طرف پی ٹی آئی امریکہ کے بعض حلقے 14 جون کو مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں، جس پر امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کے بعض افراد نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اسے غیر ضروری اور ملکی وقار کے منافی قرار دیا ہے۔

نتیجہ:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ صرف ایک عسکری تقریب میں شرکت تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی عالمی حیثیت، خطے میں اس کے اسٹریٹیجک کردار اور عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ نہ صرف اپنی قربانیوں کا اعتراف حاصل کرے بلکہ مستقبل کے لیے بہتر سفارتی، عسکری اور اقتصادی مواقع بھی حاصل کرے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button