اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

⚡ بجلی کے شعبے میں اصلاحات: سرچارج نظام میں ممکنہ تبدیلی سے توانائی شعبے کو استحکام ملنے کی امید

اسلام آباد – آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد بجلی کی فراہمی کے نظام کو پائیدار بنانا اور گردشی قرضے جیسے دیرینہ مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت بجلی کے بلوں میں سرچارج کے نظام کو مزید مؤثر اور لچکدار بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ بجٹ اور مالی ضروریات کے مطابق مؤقت اقدامات کیے جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی تجویز زیر غور ہے، جس سے حکومت کو شفاف اور قانونی دائرے میں مخصوص مدت کے لیے اضافی سرچارج عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی وقتی مالی دباؤ سے نکلنے کے ساتھ ساتھ، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے راستے ہموار کر سکتی ہے، کیونکہ اصلاحات کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو بروقت ادائیگیاں ممکن ہو سکیں گی۔

حکام کا مؤقف ہے کہ اگر یہ نظام بہتر طریقے سے نافذ کیا جائے تو نہ صرف گردشی قرضوں کا بوجھ کم ہوگا بلکہ بجلی کی مسلسل فراہمی، لائن لاسز میں کمی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے بہتر انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری بھی ممکن بنائی جا سکے گی۔

تجویز کردہ اقدامات کے تحت، صارفین پر براہ راست بوجھ ڈالنے کے بجائے، ایک متوازن حکمت عملی کے ذریعے سبسڈی اور اصلاحات کو مربوط کیا جائے گا تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

توانائی کے پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اگر نیپرا ایکٹ میں مجوزہ ترامیم منظور ہو جاتی ہیں، تو یہ پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہیں جس سے طویل المدتی استحکام اور خود انحصاری کی راہ ہموار ہو گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button