اسلام آباد: حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
بجٹ تقریر کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی ہے تاکہ متوسط طبقے کو ریلیف ملے اور مہنگائی کے اثرات کم ہوں۔
اہم تجاویز درج ذیل ہیں:
6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح صرف 1 فیصد تجویز کی گئی ہے۔
🔹 اس سے قبل یہی شرح 5 فیصد تھی۔
🔹 12 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی رقم 30,000 روپے سے کم کر کے صرف 6,000 روپے کر دی گئی۔
12 سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
حکومت کا مؤقف: تنخواہ دار طبقے کو سہولت، معیشت کو فروغ
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات معیشت کی بحالی، عوامی فلاح اور ٹیکس نیٹ کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جس سے فائدہ براہ راست عوام تک پہنچے۔
تجزیہ: متوسط طبقے کے لیے خوش آئند قدم
ماہرین معیشت کے مطابق ٹیکس میں یہ نمایاں کمی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرے گی اور ان کی قوتِ خرید میں بہتری آئے گی۔ اس اقدام سے ملکی معیشت میں مثبت اعتماد اور استحکام کی فضا پیدا ہونے کی توقع ہے۔






