عمر ایوب کے خلاف نااہلی ریفرنس پر سماعت ملتوی، الیکشن کمیشن نے بجٹ مصروفیات کا احترام کیا
اسلام آباد — قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب کے خلاف نااہلی ریفرنس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سماعت ہوئی، جس میں کمیشن نے بجٹ اجلاس اور قانونی تیاری کے پیش نظر سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔
ریفرنس پر سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت عمر ایوب روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ریفرنس کی کاپی موصول ہو چکی ہے تاہم انہوں نے ابھی وکیل مقرر کرنا ہے اور ساتھ ہی وہ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے رکن ہونے کے باعث بجٹ سیشن میں مصروف ہیں۔
الیکشن کمیشن کا بروقت اور مناسب اقدام
کمیشن نے عمر ایوب کی استدعا کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسپیکر ریفرنس پر 90 دن کی مدت دستیاب ہے، اس لیے قانونی کارروائی میں شفافیت اور فریقین کو مکمل موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس بنیاد پر سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی گئی، جب کہ وکیل کی تیاری کے لیے 24 جون کو بھی ایک سماعت رکھی گئی ہے۔
عمر ایوب کا موقف: "سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ ان کے خلاف دائر ریفرنس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کوئی مشاورت نہیں کی اور ریفرنس کو بغیر غور کے الیکشن کمیشن بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا:
"2018 کے عام انتخابات میں میں نے 40 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ میرے مخالف کی جانب سے پہلے بھی ایبٹ آباد ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا جو مسترد ہو چکا ہے۔”
عمر ایوب نے مزید کہا کہ بجٹ کے اہم ایام میں غیر ضروری سیاسی دباؤ ڈالنا نامناسب ہے، اور انہیں مناسب وقت دیا جانا خوش آئند ہے۔
سیاسی عمل اور قانونی دائرہ کار میں توازن کی مثال
یہ پیش رفت اس بات کی مظہر ہے کہ پاکستان کے جمہوری اور قانونی ادارے شفاف طریقے سے کام کر رہے ہیں، جہاں فریقین کو مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ نہ صرف آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتا ہے بلکہ ایک مثبت اور متوازن طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔






