واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کو کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی مشروط اجازت دینے پر غور کر رہی ہے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔
امریکی اخبار کے مطابق اس منصوبے پر دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بھی کام کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک تیار کرنا ہے جس کے تحت ایران کو محدود جوہری سرگرمیوں کی اجازت ہو، مگر وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو۔
دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کی کسی بھی یکطرفہ شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "کوئی بھی آزاد انسان ظلم اور ناانصافی کے آگے نہیں جھکتا، ہم دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ یہ پالیسی اختیار کرتی ہے تو یہ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک سنجیدہ سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار ایران کے ردعمل اور بین الاقوامی معاہدوں کی شفافیت پر ہوگا۔






