ملیر جیل میں زلزلے کے بعد قیدیوں کا فرار، 300 میں سے بیشتر گرفتار، سرچ آپریشن جاری
کراچی: ملیر جیل میں رات گئے پیش آنے والے غیر معمولی واقعے کے دوران زلزلے کے باعث جیل کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً 300 قیدی فرار ہو گئے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے پیش نظر حفاظتی اقدام کے طور پر قیدیوں کو بیرکوں سے باہر نکالا گیا تھا۔ اسی دوران بعض قیدیوں نے افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ جیل کے اطراف گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سیکیورٹی فورسز نے فرار کو روکنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔
ابتدائی طور پر فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد 300 بتائی گئی، تاہم پولیس اور جیل حکام کے مطابق اب تک بیشتر قیدیوں کو دوبارہ بیرکوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم چار قیدیوں کو فرار کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا۔
واقعہ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں متعدد قیدیوں کو ننگے پاؤں جیل سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فرار کے بعد جیل پولیس نے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں، جس کے باعث نیشنل ہائی وے، این ایل سی کٹ، گلشن حدید اور قائد آباد کی طرف آنے جانے والے راستے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے۔ ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا ہے۔
ادھر وزیر جیل خانہ جات سندھ، علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، اگر کوئی قیدی فرار ہوا ہے تو ہر قیمت پر گرفتار کیا جائے۔ غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”
آخری اطلاعات تک فرار قیدیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا، جبکہ جیل حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔






