اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

عمران خان کا جیل سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان "ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا، اب سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں” — عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی قیادت میں حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

علی ظفر نے بتایا کہ احتجاج کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا بلکہ تحریک پورے ملک میں چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ "ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے، اب سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔”

🔒 جیل سے تحریک کی قیادت، مکمل منصوبہ بندی کی ہدایت
سینیٹر علی ظفر کے مطابق، عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ جیل سے تحریک کی قیادت خود کریں گے اور ہر مرحلے کی ہدایات اندر سے ہی جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نے انہیں احتجاجی تحریک کا مکمل پلان تیار کرنے کی ذمہ داری دی ہے، جو وہ اگلی ملاقات میں پیش کریں گے۔

🤝 مشاورت اور تنظیمی حکمت عملی
پی ٹی آئی سینیٹر کا کہنا تھا کہ تحریک کے حوالے سے پارٹی وکلا، قیادت اور تنظیمی دھڑوں سے مشاورت کی جائے گی۔
"یہ تحریک ماضی کی تمام تحریکوں سے مختلف ہوگی، مکمل منصوبہ بندی اور تیاری کے ساتھ چلائی جائے گی،” علی ظفر نے کہا۔

عمران خان نے کہا کہ "ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا، اور ہمارے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں، اب ہم نتیجہ خیز احتجاج کریں گے۔”

🧭 ذمہ داریاں اور قیادت عمران خان کے پاس
سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ عمران خان نے پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ تحریک کی قیادت وہ خود کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی حکمت عملی کی تشکیل کے بعد مختلف ذمہ داریاں پارٹی رہنماؤں کو سونپی جائیں گی، اور اگلی ملاقات میں بانی چیئرمین خود تمام تفصیلات طے کریں گے۔

🗣️ امید کے ساتھ حکمت عملی کی تیاری
سینیٹر علی ظفر نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ عمران خان کے اعلان کے بعد اب عملی اقدامات کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
"ہمیں امید ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں قانونی اور سیاسی راستے نکلیں گے، لیکن ہم کسی بھی صورت تیار ہیں،” انہوں نے کہا۔

🔔 تجزیہ: سیاسی میدان میں نئی ہلچل کی توقع
عمران خان کے اس اعلان سے پاکستان کی سیاسی فضاء میں ایک نئی ہلچل متوقع ہے۔ یہ تحریک اگر جمہوری حدود میں منظم طریقے سے آگے بڑھی تو سیاسی مکالمے اور انتخابی عمل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button