واشنگٹن/غزہ – مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی جانب ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جب امریکا نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ وہ پیشرفت ہے جس سے خطے میں انسانی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کی نئی راہیں ہموار ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کے تیار کردہ جنگ بندی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اگرچہ معاہدے کی تمام تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے، جس دوران اقوام متحدہ کی نگرانی میں انسانی امداد غزہ تک پہنچائی جائے گی۔
دوسری جانب حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ تنظیم امریکی تجاویز کا ذمہ داری سے جائزہ لے رہی ہے، تاکہ فلسطینی عوام کے مفادات کو تحفظ دیا جا سکے اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ممکن ہو۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے جنگ بندی اور انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
امن کی طرف پہلا قدم؟
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی زیرحراست افراد کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز قبول کر لی ہے، تاہم باضابطہ تصدیق صرف وائٹ ہاؤس کی جانب سے آئی ہے۔
دنیا بھر کے امن پسند حلقے اس پیشرفت کو امید کی کرن قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے گا بلکہ خطے میں دیرپا امن کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔






