اسلام آباد: حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ کی پیشکش میں تاخیر کے باوجود معاشی بہتری اور عالمی تعلقات کے استحکام کے لیے اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں اور حکومتی عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلے ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد طویل المدتی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ میں تاخیر کی وجوہات
معروف تجزیہ کار شہباز رانا نے بتایا کہ حکومت کی خواہش تھی کہ بجٹ عید سے قبل 2 جون کو پیش کیا جائے اور یکم جون کو اس حوالے سے عوامی سروے لانچ کیا جانا تھا، تاہم بعض اہم وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہ ہو سکا۔
ان کے مطابق بجٹ کی تیاری کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات مکمل نہیں ہو سکے۔ حکومت بعض شعبوں، بالخصوص تنخواہ دار طبقے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تاہم کچھ ٹیکس اصلاحات پر تاحال فریقین کے درمیان اتفاق نہیں ہو پایا۔
تجارتی اصلاحات اور انڈسٹری کے لیے پانچ سالہ منصوبہ
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے کامرس رانا احسان افضل نے بتایا کہ حکومت ایک پانچ سالہ اسکیم کے تحت ملک میں ٹریڈ لبرلائزیشن (تجارتی آزادی) کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کے تحت مختلف ڈیوٹیز (ریگولیٹری، ایڈیشنل، کسٹمز) کو بتدریج ختم کیا جائے گا تاکہ ملکی صنعتوں کو خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا موقع دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ وقت ہے کہ ہماری انڈسٹری اپنے وسائل کو ازسرِ نو ترتیب دے، ٹیکنالوجی میں بہتری لائے اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ہو جائے۔”
وزیراعظم کا اہم سفارتی دورہ
دوسری جانب، تجزیہ کار کامران یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج سے ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے چار ملکی اہم دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ان ممالک سے قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور حالیہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ظاہر کی گئی حمایت کو سراہنے کا موقع ہے۔
"وزیراعظم نہ صرف ان حکومتوں بلکہ ان ممالک کے عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنے جا رہے ہیں، اور ساتھ ہی یہ ایک موقع ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جائے۔”
یہ رپورٹ عوام کو پاکستان کی معاشی پالیسی، عالمی سفارت کاری اور اصلاحاتی منصوبوں کی سمت سے آگاہ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اگر آپ اسے کسی مخصوص میڈیا پلیٹ فارم یا فارمیٹ (اخبار، سوشل میڈیا، ویب سائٹ) کے لیے چاہیں تو میں مزید ڈھال سکتا ہوں۔






