تازہ تریندنیا

فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر صدر ٹرمپ کا ردعمل، فرانسیسی صدر میکرون کے اعلان کو مسترد کر دیا

واشنگٹن/پیرس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میکرون کے بیان میں "توازن کا فقدان” ہے اور ان کے موقف سے "کوئی خاص فرق نہیں پڑتا”۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:

"صدر میکرون جو کہتے ہیں، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ وہ بہت اچھے آدمی ہیں، لیکن اس معاملے میں توازن نہیں ہے۔”

صدر ٹرمپ کا یہ بیان فرانس کی جانب سے فلسطین کی ممکنہ ریاستی حیثیت کو تسلیم کرنے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جسے کئی حلقوں میں سفارتی سطح پر اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

🇫🇷 میکرون کا تاریخی اعلان
گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط ارسال کیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ:

"مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے فرانس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران کریں گے۔ میکرون کا یہ خط انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا، جسے عالمی سطح پر خاصی توجہ ملی۔

یورپ اور امریکہ میں پالیسی فرق نمایاں
تجزیہ کاروں کے مطابق، فرانسیسی اقدام سے یورپ اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں میں نمایاں فرق ایک بار پھر اجاگر ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک بالخصوص دو ریاستی حل کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ امریکی حکومت کی پالیسی زیادہ تر اسرائیل نواز سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، میکرون کا اعلان مشرق وسطیٰ میں سفارتی توازن کے لیے ایک نیا دروازہ کھول سکتا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے مخالفت کی موجودگی میں اس عمل کو چیلنجز کا سامنا بھی رہے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button