آئی ایم ایف کا پاکستان سے مہنگائی کو پانچ سے سات فیصد ہدف میں لانے پر زور
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر ہونے والے مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور شرح مبادلہ میں لچک لانے کی تجاویز بھی دی گئیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے، معاشی ترقی کی شرح بڑھانے، اور مالی پالیسی کو مضبوط اور دیرپا بنانے پر مشاورت ہوئی ہے، تاکہ معیشت میں پائیدار بہتری لائی جا سکے۔
پاکستان نے پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر کیا ہے، جسے عالمی ادارہ ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگلا جائزہ 2025 کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی تشکیل دے، اور کرنسی کا تبادلہ ریٹ مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
اعلامیے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور سنجیدگی قابل تعریف ہے۔ عالمی ادارے نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت آئندہ بھی مثبت انداز میں جاری رہے گی۔






