خیبر پختونخوا میں خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات، 4 ماہ میں 116 خواتین کے قتل کے ملزمان گرفتار
پشاور (رپورٹ) — خیبر پختونخوا میں رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران گھریلو جھگڑوں، دیرینہ دشمنیوں اور دیگر تنازعات کے باعث 116 خواتین جاں بحق ہوئیں۔ تاہم، پولیس نے خواتین کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق جنوری سے اپریل 2025 کے دوران 116 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں مردان ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 40 خواتین قتل ہوئیں۔ مالاکنڈ میں 29، پشاور میں 19، بنوں میں 13، ہزارہ میں 8 اور کوہاٹ میں 7 خواتین جان سے گئی ہیں۔ خواتین کے قتل کے کیسز میں ملوث 147 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ صوبے میں صنف نازک کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر تھانے میں وومن ڈیسک قائم کیے جا چکے ہیں تاکہ خواتین اپنی شکایات آسانی سے درج کر سکیں اور فوری کارروائی ممکن ہو۔
آئی جی کا کہنا تھا کہ پشتون معاشرے میں خواتین کو ماں، بہن اور بیٹی کے طور پر عزت دی جاتی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے نہ صرف پالیسی سطح پر بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خواتین کے قتل میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
یہ اقدامات خواتین کے حقوق کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی جانب اہم قدم ہیں، جس سے صوبے میں خواتین کو ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنے کی کوشش جاری ہے۔






