اہم خبریںدنیا

امریکی صدر کے حکم کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی طلبا کی داخلہ سہولت سے عارضی طور پر روک لگا دی گئی

واشنگٹن (عالمی رپورٹر) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی طلبا کو داخلہ دینے سے عارضی طور پر روک دیا ہے، جس کے بعد یونیورسٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ہارورڈ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ اور وزیٹر ایکسچینج پروگرام کی سرٹیفیکیشن منسوخ کر دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یونیورسٹی اب نئے غیر ملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکے گی اور موجودہ غیر ملکی طلبا کو اپنے ادارے تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے یونیورسٹی کو خط میں بتایا کہ یہ اقدام جاری تفتیش کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ یونیورسٹی کی جانب سے وفاقی معاہدوں کی خلاف ورزی اور تعلیمی معیار پر سوالات کے بعد لیا گیا ہے۔

دوسری جانب، ہارورڈ یونیورسٹی نے اس پابندی کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف یونیورسٹی بلکہ پورے ملک کے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچے گا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں بھی ہارورڈ یونیورسٹی کے وفاقی فنڈز کی جانچ پڑتال شروع کی تھی، جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی نے کیمپس میں یہود مخالف رویے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

حالیہ پابندی اور تنقید کے باوجود، ہارورڈ یونیورسٹی نے حکومت کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنی تعلیمی خودمختاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، جس سے دونوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button